حضرت شیخ سعدیؒ

 حضرت شیخ سعدیؒ

٭ دو عقل مند آپس میں لڑا نہیں کرتے۔ نہ دانا بیوقوف کے ساتھ لڑتا ہے۔
حضرت داتا گنج بخشؒ
٭ رضا دو طرح کی ہے۔ حق تعالیٰ کی رضا بندہ سے اور بندہ کی رضا حق تعالیٰ سے۔
حضرت داتا گنج بخشؒ
٭ بندہ کی رضا یہ ہے کہ خدا کے فرمان پر قائم رہے اور اس کے احکامات سے ہر گز سر تابی نہ کرے۔
حضرت بختیار کاکیؒ
٭ درویشی کی راہ پر چلنا اور بات ہے اور ذخیرہ جمع کرنا اور بات۔ یا درویش بن یا ذخیرہ جمع کر۔
حضرت مجدد الف ثانیؒ
٭ پیغمبر کی بات کے مقابلے میں حکماء کے اقوال چھوڑ دو۔
حضرت وارث علی شاہؒ
٭ محبت میں بے ادبی عین ادب ہے۔
حضرت واصف علی واصفؒ
٭ جب خواہشات دم توڑتی ہیں تو اضطراب پیدا ہوتا ہے۔
عرفان احمد
٭ خدا ڈھونڈنے سے نہیں بلکہ مانگنے سے ملتا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم
٭ جسے سلامتی کی ضرورت ہو اسے خاموشی اختیار کرنا چاہیے۔
حضرت علی مرتضیٰ ؑ
٭ مصائب کا مقابلہ صبر سے اور نعمتوں کی حفاظت شکرسے کرو۔
حضرت شیخ سعدیؒ
٭ ہنر مند آدمی جہاں جائے۔ قدرو منزلت پاتا ہے اور اونچی جگہ بیٹھتا ہے اور بے ہنر پس خُوردہ کھاتا اور تنگی سے دن گزارتا ہے۔
حضرت ابو الحسن نوریؒ
٭ دنیا کی دشمنی اور خدا سے دوستی کا نام تصوف ہے۔
حضرت داتا گنج بخشؒ
٭ عارف عالم ضرور ہوتا ہے مگر ضروری نہیں کہ عالم عارف بھی ہو۔
حضرت بختیار کاکیؒ
٭ درویش کو راہ سلوک میں روزانہ ایک لاکھ ملکوں سے گزرنا چاہیے۔ پھر بھی قدم آگے بڑھتا رہے۔
حضرت فریدالدین گنج شکرؒ
٭ اگر لوگوں کو علم کی قدرو منزلت کا پتہ چل جائے توسارے کام چھوڑ کر علم کے پیچھے لگ جائیں۔
حضرت مجدد الف ثانی ؒ
٭ مغروروں کے ساتھ تکبر کے ساتھ پیش آنا صدقہ ہے۔
حضرت واصف علی واصفؒ
٭ صرف بزرگوں کی یاد منانے سے بزرگوں کا فیض نہیں ملتا۔ بلکہ ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے سے بات بنتی ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم
٭ بد ظنی سے پرہیز کرو کیونکہ ظن سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔ عیب جوئی مت کرو۔ چھپ کر باتیں نہ سنو۔
حضرت علی مرتضیٰ ؑ
٭ معافی بہت اچھا انتقام ہے۔
حضرت شیخ سعدیؒ
٭ جو اپنوں کے ساتھ وفا نہیں کرتا۔ عقل مندوں کے نزدیک دوستی کے قابل نہیں ہوتا۔
حضرت ابوبکر بن داؤدؒ
٭ بے وقوف کے ساتھ جنت میں بیٹھنے سے عقل مند کے ساتھ دوزخ میں بیٹھنا بہتر ہے۔
حضرت فریدالدین گنج شکرؒ
٭ درویش کو چاہیے کہ لوگوں کے عیب نہ دیکھے۔ جو باتیں سننے کے لائق نہ ہوں نہ سنے۔ جو باتیں کہنے کے لائق نہ ہوں، نہ کہے اور جہاں جانا مناسب نہ ہو وہاں نہ جائے۔
حضرت بختیار کاکیؒ
٭ بزرگوں کی مجلس میں جہاں جگہ پاؤ بیٹھ جاؤ۔
حضرت نظام الدین اولیاؒ
٭ علم بہت شریف چیز ہے لیکن جب اسے حاصل کر کے در در کا چکر لگایا جائے تو ذلیل ہو جاتا ہے۔
حضرت مجدد الف ثانی ؒ
٭ خداوند تعالیٰ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی۔ خدا تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ دشمنی کی طرف لے جاتی ہے۔
حضرت مجدد الف ثانیؒ
٭ عورت کا نامحرم مرد سے نرم لہجے میں بات کرنا بھی بد کاری میں شامل ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم
٭ فخر نہ کرو۔ حسد اور کینہ نہ رکھو۔ منہ نہ موڑو۔ اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بنے رہو۔
حضرت علی مرتضیٰ ؑ
٭ اقرارِ جرم، مجرم کے لیے بہت اچھا سفارشی ہے۔
حضرت شیخ سعدیؒ
٭ تو خواہ کتنا ہی علم پڑھ لے جب تک اس پر عمل نہ کرے گا نادان ہی رہے گا۔
حضرت فریدالدین گنج شکرؒ
٭ محض اندازے اور قیاس پر کوئی بات مت کہو۔ ایسا کرنے سے انسان غلط فہمی، نفرت اور جھوٹ پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔
حضرت داتا گنج بخشؒ
٭ سچا فقیر بن چاہے کافروں کی سی کلاہ پہن۔
حضرت بختیار کاکیؒ
٭ اگر راہ گیر ایک خاص راستے پر چلتا رہے اور یقین کامل اور امید کامل رکھے تو وہ ضرور درجۂ کمال کو پہنچ جاتا ہے۔
حضرت سلطان محمود غزنویؒ
٭ اچھی کتاب سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔
حضرت واصف علی واصفؒ
٭ خاموشی دانا کا زیور ہے اور احمق کا بھرم۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم
٭ جب تین شخص بیٹھے ہوں تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کریں۔ کیونکہ اس سے وہ آزردہ ہو جائے گا۔
حضرت علی مرتضیٰ ؑ
٭ عورت سر تا پا شر اور خرابی ہے اور اس سے بڑھ کر خرابی یہ ہے کہ عورت کے بغیر گذارا بھی نہیں ہو سکتا۔
حضرت شیخ سعدیؒ
٭ کمزور دشمن جو اطاعت قبول کرے اور دوست بن جائے اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ وہ ایک زبردست دشمن بننا چاہتا ہے۔
حضرت فریدالدین گنج شکرؒ
٭ قیاس پر گفتگو نہ کرنی چاہیے اور دل کو شیطان کا کھلونا نہیں بنانا چاہیے۔
حضرت مجدد الف ثانیؒ
٭ کمال اسلام یہ ہے کہ اس دنیوی فرض کو چھوڑ دیا جائے جو کفار کے ساتھ وابستہ ہو۔
حضرت واصف علی واصفؒ
٭ دعا پر اعتماد۔ ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔
حضرت بختیار کاکیؒ
٭ چار چیزیں گوہر نفس ہیں۔ درویشی جو تونگری دکھائی دے۔ بھوک جو سیری دکھائی دے۔ غم جو خوشی دکھائی دے اور باوجود دشمنی کے دوستی کا برتاؤ۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم
٭ جو شخص اس بات سے خوش ہو کہ لوگ اس کے لئے تعظیماً کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانا آگ میں سمجھ لے۔
حضرت علی مرتضیٰ ؑ
٭ علماء اس لیے غریب و بے کس ہیں کہ جاہل لوگ زیادہ ہیں جو ان کی قدر نہیں کرتے۔
حضرت شیخ سعدیؒ
٭ اے عقل مند ! ایسے دوست سے کنارہ کشی اختیار کر جو تیرے دشمنوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔
حضرت امام رازیؒ
٭ بڑے گھروں میں عموماً چھوٹے اور چھوٹے گھروں میں بڑے لوگ رہتے ہیں۔
حضرت فرید الدین گنج شکرؒ
٭ مومنین کا دل پاک زمین کی طرح ہے۔ اگر اس میں محبت کا بیج بویا جائے تو قسم قسم کی نعمتیں پیدا ہوتی ہیں۔
حضرت چراغ دہلویؒ
٭ جو اپنے آپ کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ اسے طاعت میں لذت حاصل ہوتی ہے۔
حضرت سلطان ٹیپو شہیدؒ
٭ جس قوم میں غدار پیدا ہونے لگیں اس قوم کے مضبوط قلعے بھی مٹی کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں۔
حضرت قائد اعظمؒ
٭ ہمیں تہذیب و شرافت کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم
٭ اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے۔
حضرت علی مرتضیٰ ؑ
٭ ظالموں سے عذاب اور مظلوموں سے نصرت الٰہی نہایت قریب ہے۔
حضرت شیخ سعدیؒ
٭ ہر شخص کو اپنی عقل سب سے بڑی اور اپنا بیٹا سب سے خوبصورت نظر آتا ہے۔
حضرت فرید الدین گنج شکرؒ
٭ جب تک تو سانپ کی طرح کینچلی نہ اتارے۔ محبتِ حق کے دعویٰ میں صادق نہیں ہو سکتا۔
حضرت مجدد الف ثانی ؒ
٭ احسان ہر جگہ بہتر ہے مگر ہمسائے کے ساتھ بہترین ہے۔
حضرت داتا گنج بخشؒ
٭ جو کچھ فقیر پر گزرے۔ اسے کسی پر ظاہر نہ کرے اور جس بات کا اس پر ظہور ہو جائے اسے پوشیدہ نہ رکھے اور اسرار کے غالب آنے سے وہ اتنا مغلوب نہ ہو جائے کہ احکام شریعت بجا نہ لا سکے۔
حضرت واصف علی واصفؒ
٭ کائنات کی اشیاء کا ہمہ وقت مصروف سفر رہنا کسی انوکھی تلاش کا اظہار ہے۔
حضرت خوشحال خان خٹکؒ
٭ ایک غیرت مند انسان کے دنیا میں دو ہی کام ہیں۔ یا تو وہ کامران ہوتا ہے یا اپنا سر کٹوا لیتا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم
٭ اگر مرتے دم تک تم حاکم یا منشی یا کاردار نہ ہوئے تو سمجھو کہ مزہ میں رہے اور مصیبت سے بچ گئے۔
حضرت علی مرتضیٰ ؑ
٭ بصارت کا چلا جانا بصیرت کے اندھا ہونے سے اچھا ہے۔
حضرت شیخ سعدیؒ
٭ جو شخص طاقت کے دنوں میں نیکی نہیں کرتا۔ ضعف کے دنوں میں سختی اٹھاتا ہے۔
حضرت یوسف بن الحسیننؒ
٭ جو کوئی خدا سے جتنی زیادہ محبت کرتا ہے اسے اتنی ہی زیادہ ذلت اٹھانا پڑتی ہے۔
حضرت عطا بن ابی رباحؒ
٭ ہمت والا کامیاب ہوتا ہے اور صرف ارادہ رکھنے والا ناکام رہتا ہے۔
حضرت فرید الدین گنج شکرؒ
٭ جو شخص خدا سے جتنا زیادہ غافل ہو گا وہ اتنا ہی زیادہ دنیا میں مبتلا ہو گا۔
حضرت داتا گنج بخشؒ
٭ اس دنیا کے ساتھی(آنکھ، زبان، کان، پاؤں ) جو بظاہر دوست لگتے ہیں۔ در اصل یہ تمہارے دشمن ہیں۔
حضرت مولانا رومؒ
٭ کمینہ آدمی بڑا دشمن ہوتا ہے اور ہر دوکان کا گاہک بن جاتا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم
٭ جس نے اپنی عقل کو کافی سمجھا اس نے غلطی کی اور جس نے اپنی رائے پر غرور کیا وہ گمراہ ہوا۔
حضرت علی مرتضیٰ ؑ
٭ جب عقل کامل ہو جاتی ہے تو کلام گھٹ جاتا ہے اور جب کلام کم ہو جائے تو آدمی اکثر صحیح بات لکھتا ہے۔
حضرت چراغ دہلویؒ
٭ اگر طلب دنیا میں خیر کی نیت ہو تو وہ فی الحقیقت طلب آخرت ہے۔
حضرت شیخ سعدیؒ
٭ یا تو انسان کی طرح ہوش سے باتیں کر یا مویشیوں کی طرح خاموش رہ۔
حضرت فرید الدین گنج شکرؒ
٭ اہل توکل پر ایسی گھڑی بھی آتی ہے کہ جب ان کو آگ میں ڈالا جائے یا زخمی کیا جائے تو انہیں اس کی مطلق خبر نہیں ہوتی۔
حضرت مجدد الف ثانیؒ
٭ عوام کے نزدیک ایک مردہ جسم کو زندہ کرنا بڑی بات ہے اور خواص کے نزدیک قلب و روح کو زندہ کرنا بڑی قاطع دلیل ہے۔
حضرت داتا گنج بخشؒ
٭ صوفی وہ ہے جس کی گفتار اور کردار ایک جیسے ہوں۔
حضرت بہاؤالدین ذکریا ملتانی ؒ
٭ خدا طلبی بلا طلبی ہے جیسا کہ حدیث قدسی ہے کہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے میں اسے مبتلا کرتا اور آزماتا ہوں۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم
٭ جس چیز میں فحش ہو گا اس کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ تباہی ہو اور جس میں حیا ہے اس کا انجام اس کی زینت ہے۔
حضرت علی مرتضیٰ ؑ
٭ سب سے زیادہ سخت گناہ وہ ہے جو اس کے کرنے والے کی نظر میں چھوٹا ہے۔
حضرت شیخ سعدیؒ
٭ تیز دانت والے شیر پر رحم کھانا بکریوں پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔
حضرت فریدالدین گنج شکرؒ
٭ انسان جو کچھ بھی کرے یہی سمجھے کہ یہ سب خدا کی مرضی سے ہو رہا ہے اور اس کی اپنی ذات درمیان میں نہیں ہے۔
حضرت مجدد الف ثانی ؒ
٭ ظاہری ولادت کی عمر چند روزہ ہے اور ولادت معنوی کی زندگی ابدی ہے۔
حضرت واصف علی واصفؒ
٭ آرزو کا فسانہ کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ کبھی آغاز رہ جاتا ہے۔ کبھی انجام رہ جاتا ہے۔
حضرت مولانا رومؒ
٭ درویشی کا کام تیری سمجھ سے بالا تر ہے۔ تو فقیروں کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھ۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم
٭ کھاؤ، خیرات کرو اور پہنو اس حد تک کہ فضول خرچی اور تکبر نہ کرو۔
حضرت علی مرتضیٰ ؑ
٭ حکمت کی بات گویا مومن کی گم شدہ چیز ہے۔ جسے وہ جہاں دیکھتا ہے لے لیتا ہے۔
حضرت امام شافعی ؒ
٭ جب کام زیادہ ہوں تو سب سے پہلے اس کام کو ہاتھ میں لو جو سب سے اہم ہو۔
حضرت شیخ سعدیؒ
٭ دانا عطار کی ڈبیا کی مانند خاموش مگر صاحب ہنر ہوتا ہے۔ بے وقوف ڈھول کی طرح بہت بلند آواز مگر اندر سے بالکل خالی ہوتا ہے۔
حضرت فریدالدین گنج شکرؒ
٭ خرقہ پہن لینا آسان ہے مگر اس کا حق ادا کرنا مشکل ہے اور صرف خرقہ پہن لینے سے ہی نجات حاصل ہو سکتی تو سب لوگ ہی خرقہ پہن لیتے۔
حضرت فاطمہ جناحؒ
٭ آزادی کی حفاظت قوانین سے نہیں بلکہ جذبۂ ایثار و عمل کے ذریعے ہوتی ہے۔
حضرت واصف علی واصفؒ
٭ اپنے سے کم تر کا خیال رکھنا سکون قلب کا ذریعہ ہے۔
حضرت نظام الدین اولیاؒ
٭ توحید کے معنی خدا کو ایک کہنا ہے اور معرفت کے معنی خدا کو پہچاننا ہے۔
حضرت واصف علی واصفؒ
٭ خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے۔
چودھری افضل حقؒ
٭ سچائی میں پھیلنے کی طاقت ہے۔ مگر اسے پھیلانے والوں کی بھی ضرورت ہے۔

Comments